غلام مزمل عطاؔ اشرفی کی منتخب غزلیں | عشق، کربلا اور حق گوئی

غلام مزمل عطاؔ اشرفی کی منتخب غزلیں

درد، عشق، کربلا، حق گوئی اور اہلِ قلم کی ذمہ داری
پیشِ نظر غلام مزمل عطاؔ اشرفی کی تین منتخب غزلیں ہیں۔ ان غزلوں میں عشق و محبت کے داخلی جذبات کے ساتھ کربلا کی لازوال قربانی، صبر و وفا، حق و باطل کی کشمکش، ظلم کے خلاف صدائے احتجاج اور اہلِ قلم کی ذمہ داری جیسے اہم موضوعات کو شعری انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
غزل اوّل

درد دل میں وہ جگا کر چل دیے
آگ پانی میں لگا کر چل دیے

ایک جگنو کی تمنا کے لیے
کتنے سورج کو بجھا کر چل دیے

وہ سمندر تھے مگر حیرت یہ ہے
پیاس ہونٹوں پر سجا کر چل دیے

درد کے صحرا میں تنہا چھوڑ کر
پیار کی دنیا سجا کر چل دیے

آئینوں کے شہر میں کچھ لوگ بھی
اپنے چہرے کو چھپا کر چل دیے

ہم نے رکھا تھا جنہیں دل میں کبھی
درد دل سینے لگا کر چل دیے

عشق کی شدت عطاؔ یہ دیکھیے
زخم کھا کر مسکرا کر چل دیے

غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار، ہند
غزل دوم

سرکٹا کر، دیں بچا کر چل دیے
خون سے کر بل سجا کر چل دیے

پیاس کے عالم میں بھی آلِ نبیؐ
صبر کا دریا بہا کر چل دیے

ایک سجدے کی حرارت کے طفیل
تاجِ قیصر کو جھکا کر چل دیے

کربلا والوں کی وارث قوم تھی
اپنے ہی خیمے جلا کر چل دیے

دجلۂ بغداد پر تاتار بھی
علم کے دریا بہا کر چل دیے

نفرتوں کی دھوپ میں اہلِ وفا
پیار کا پودا لگا کر چل دیے

اے عطاؔ اہلِ وفا کیا خوب تھے
خاکِ دل کو گل بنا کر چل دیے

غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار، ہند
غزل سوم

آئینے سب کو دکھا کر چل دیے
دیپ الفت کا جلا کر چل دیے

خوف کے چہروں سے پردے نوچ کر
اہل غیرت مسکرا کر چل دیے

ہر طرف بکنے لگے کردار بھی
لوگ قیمت خود لگا کر چل دیے

بھوک سڑکوں پر تڑپتی رہ گئی
وہ خزانے پھر دبا کر چل دیے

قوم کے سوتے ہوئے احساس کو
خونِ دل اپنا پلا کر چل دیے

قصرِ باطل کے در و دیوار پر
حق کے نعرے وہ لکھا کر چل دیے

وقت کے فرعون تھے جتنے یہاں
خاک میں سب کو ملا کر چل دیے

ہر طرف تھا ظلمتوں کا سلسلہ
خود کو سورج سا جلا کر چل دیے

اے عطاؔ اہلِ قلم نے عہد میں
آگ لفظوں میں چھپا کر چل دیے

غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار، ہند

0 Comments

Post a Comment

Post a Comment (0)

Previous Post Next Post